اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں مغربی کنارے میں مطلوب فلسطینیوں کی گرفتاری کے لیے تعینات کی جانے والی بعض فوجی نفری کو قصّرہ میں فلسطینیوں اور صہیونی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی سے نمٹنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، گولانی بریگیڈ کی 51ویں بٹالین، جو آرام کے مرحلے میں تھی، کو علاقے میں تعینات کیا گیا تاکہ صورتِ حال کو قابو میں رکھا جا سکے اور صہیونی آبادکاروں کو ایک خالی کرائی گئی بستی کے مقام پر دوبارہ آباد ہونے سے روکا جا سکے۔
’’اسرائیل ہیوم‘‘ کے مطابق 51ویں بٹالین کو جلد قصّرہ سے واپس بلایا جانا ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان نے علاقے میں مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک دوسری فوجی یونٹ 51ویں بٹالین کی جگہ تعینات کی جائے گی۔
اخبار نے لکھا کہ فوجی یونٹوں کو مسلسل ایسے فرائض پر تعینات رکھنے سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ ہر بٹالین پہلے ہی متعدد ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث مطلوب فلسطینیوں کی گرفتاری سمیت بعض دیگر فوجی کارروائیاں مؤخر یا منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں۔
تاہم اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر ان فلسطینیوں کے خلاف کارروائی پر لاگو نہیں ہوگی جنہیں فوری خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انٹیلی جنس معلومات سے کسی فلسطینی کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی یا حقیقی خطرے کی نشاندہی ہو تو اسے گرفتار کرنے کے لیے فوری طور پر فوجی دستے روانہ کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حملوں کی روک تھام اب بھی اس کی اولین ترجیح ہے، تاہم دیگر کارروائیوں کے بارے میں فیصلہ زمینی صورتِ حال اور فوری سکیورٹی جائزے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ